وَلِلَّهِ غَيْبُ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ وَإِلَيْهِ يُرْجَعُ ٱلْأَمْرُ كُلُّهُۥ فَٱعْبُدْهُ وَتَوَكَّلْ عَلَيْهِ ۚ وَمَا رَبُّكَ بِغَـٰفِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ
11:123
وَلِلَّهِ غَيْبُ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ وَإِلَيْهِ يُرْجَعُ ٱلْأَمْرُ كُلُّهُۥ فَٱعْبُدْهُ وَتَوَكَّلْ عَلَيْهِ ۚ وَمَا رَبُّكَ بِغَـٰفِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ
11:123
walillahi ghaybu l-samāwāti wal-arḍi wa-ilayhi yur'jaʿu l-amru kulluhu fa-uʿ'bud'hu watawakkal ʿalayhi wamā rabbuka bighāfilin ʿammā taʿmalūna
اور آسمانوں اور زمین کی چھپی چیزوں کا علم خدا ہی کو ہے اور تمام امور کا رجوع اسی کی طرف ہے۔ تو اسی کی عبادت کرو اور اسی پر بھروسہ رکھو۔ اور جو کچھ تم کررہے ہو تمہارا پروردگار اس سے بےخبر نہیں
ترجمہ: مولانا فتح محمد جالندھری
زمینوں اور آسمانوں کا علم غیب اللہ تعالیٰ ہی کو ہے، تمام معاملات کا رجوع بھی اسی کی جانب ہے، پس تجھے اسی کی عبادت کرنی چاہئے اور اسی پر بھروسہ رکھنا چاہئے اور تم جو کچھ کرتے ہو اس سے اللہ تعالیٰ بے خبر نہیں.
ترجمہ: مولانا محمد جوناگڑھی
علم غیب اور حاکمیت اعلیٰ صرف اللہ ہی کو سزاوار ہے ٭٭
آسمان و زمین کے ہر غیب کو جاننے والا صرف اللہ تعالیٰ عزوجل ہی ہے۔ اسی کی سب کو عبادت کرنی چاہیئے اور اسی پر بھروسہ کرنا چاہیئے۔ جو بھی اس پر بھروسہ رکھے وہ اس کے لیے کافی ہے۔ کعب رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ تورات کا خاتمہ بھی انہیں آیتوں پر ہے اللہ تعالیٰ مخلوق میں سے کسی کے کسی عمل سے بے خبر نہیں۔
صفحہ نمبر3944
تفسیر: حافظ ابنِ کثیر (اردو)