لَهُۥ دَعْوَةُ ٱلْحَقِّ ۖ وَٱلَّذِينَ يَدْعُونَ مِن دُونِهِۦ لَا يَسْتَجِيبُونَ لَهُم بِشَىْءٍ إِلَّا كَبَـٰسِطِ كَفَّيْهِ إِلَى ٱلْمَآءِ لِيَبْلُغَ فَاهُ وَمَا هُوَ بِبَـٰلِغِهِۦ ۚ وَمَا دُعَآءُ ٱلْكَـٰفِرِينَ إِلَّا فِى ضَلَـٰلٍ
13:14
لَهُۥ دَعْوَةُ ٱلْحَقِّ ۖ وَٱلَّذِينَ يَدْعُونَ مِن دُونِهِۦ لَا يَسْتَجِيبُونَ لَهُم بِشَىْءٍ إِلَّا كَبَـٰسِطِ كَفَّيْهِ إِلَى ٱلْمَآءِ لِيَبْلُغَ فَاهُ وَمَا هُوَ بِبَـٰلِغِهِۦ ۚ وَمَا دُعَآءُ ٱلْكَـٰفِرِينَ إِلَّا فِى ضَلَـٰلٍ
13:14
lahu daʿwatu l-ḥaqi wa-alladhīna yadʿūna min dūnihi lā yastajībūna lahum bishayin illā kabāsiṭi kaffayhi ilā l-māi liyablugha fāhu wamā huwa bibālighihi wamā duʿāu l-kāfirīna illā fī ḍalālin
سودمند پکارنا تو اسی کا ہے اور جن کو یہ لوگ اس کے سوا پکارتے ہیں وہ ان کی پکار کو کسی طرح قبول نہیں کرتے مگر اس شخص کی طرح جو اپنے دونوں ہاتھ پانی کی طرف پھیلا دے تاکہ (دور ہی سے) اس کے منہ تک آ پہنچے حالانکہ وہ (اس تک کبھی بھی) نہیں آسکتا اور (اسی طرح) کافروں کی پکار بیکار ہے
ترجمہ: مولانا فتح محمد جالندھری
اسی کو پکارنا حق ہے۔ جو لوگ اوروں کو اس کے سوا پکارتے ہیں وه ان (کی پکار) کا کچھ بھی جواب نہیں دیتے مگر جیسے کوئی شخص اپنے دونوں ہاتھ پانی کی طرف پھیلائے ہوئے ہو کہ اس کے منھ میں پڑ جائے حاﻻنکہ وه پانی اس کے منھ میں پہنچنے واﻻ نہیں، ان منکروں کی جتنی پکار ہے سب گمراہی میں ہے.
ترجمہ: مولانا محمد جوناگڑھی
دعوت حق ٭٭
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”اللہ کے لیے دعوت حق ہے، اس سے مراد توحید ہے۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:364/7:] محمد بن منکدر کہتے ہیں مراد «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» ہے۔
پھر مشرکوں کافروں کی مثال بیان ہوئی کہ ” جیسے کوئی شخص پانی کی طرف ہاتھ پھیلائے ہوئے ہو کہ اس کے منہ میں خودبخود پہنچ جائے تو ایسا نہیں ہونے کا۔ اسی طرح یہ کفار جنہیں پکارتے ہیں اور جن سے امیدیں رکھتے ہیں، وہ ان کی امیدیں پوری نہیں کرنے کے “۔
اور یہ مطلب بھی ہے کہ ” جیسے کوئی اپنی مٹھیوں میں پانی بند کرلے تو وہ رہنے کا نہیں “۔ پس باسط قابض کے معنی میں ہے۔
عربی شعر میں «فَإِنِّي وَإيَّاكُمْ وَشَوْقًا إِلَيْكُمُ كَقَابِضِ مَاءٍ لَمْ تَسْقِهِ أَنَامِلُهُ» «فَأَصْبَحْتُ ممَّا كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَهَا» «مِنَ الوُدِّ مِثْلَ الْقَابِضِ الْمَاءَ بِالْيَدِ» بھی «قَابِضِ الْمَاءَ» آیا ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:364/7:]
پس جیسے پانی مٹھی میں روکنے والا اور جیسے پانی کی طرف ہاتھ پھیلانے والا پانی سے محروم ہے، ایسے ہی یہ مشرک اللہ کے سوا دوسروں کو گو پکاریں لیکن رہیں گے محروم ہی دین دنیا کا کوئی فائدہ انہیں نہ پہنچے گا۔ ان کی پکار بےسود ہے۔
صفحہ نمبر4138
تفسیر: حافظ ابنِ کثیر (اردو)