وَلَا تَحْسَبَنَّ ٱللَّهَ غَـٰفِلًا عَمَّا يَعْمَلُ ٱلظَّـٰلِمُونَ ۚ إِنَّمَا يُؤَخِّرُهُمْ لِيَوْمٍ تَشْخَصُ فِيهِ ٱلْأَبْصَـٰرُ
14:42
رکوع ۷وَلَا تَحْسَبَنَّ ٱللَّهَ غَـٰفِلًا عَمَّا يَعْمَلُ ٱلظَّـٰلِمُونَ ۚ إِنَّمَا يُؤَخِّرُهُمْ لِيَوْمٍ تَشْخَصُ فِيهِ ٱلْأَبْصَـٰرُ
14:42
رکوع ۷walā taḥsabanna l-laha ghāfilan ʿammā yaʿmalu l-ẓālimūna innamā yu-akhiruhum liyawmin tashkhaṣu fīhi l-abṣāru
اور (مومنو) مت خیال کرنا کہ یہ ظالم جو عمل کر رہے ہیں خدا ان سے بےخبر ہے۔ وہ ان کو اس دن تک مہلت دے رہا ہے جب کہ (دہشت کے سبب) آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی
ترجمہ: مولانا فتح محمد جالندھری
ناانصافوں کے اعمال سے اللہ کو غافل نہ سمجھ وه تو انہیں اس دن تک مہلت دیے ہوئے ہے جس دن آنکھیں پھٹی کی پھٹی ره جائیں گی.
ترجمہ: مولانا محمد جوناگڑھی
ہولناک منظر ہو گا ٭٭
کوئی یہ نہ سمجھے کہ برائی کرنے والوں کی برائی کا اللہ کو علم ہی نہیں اس لیے یہ دنیا میں پھل پھول رہے ہیں، نہیں اللہ ایک ایک کے ایک ایک گھڑی کے برے بھلے اعمال سے بخوبی واقف ہے یہ ڈھیل خود اس کی دی ہوئی ہے کہ یا تو اس میں واپس ہو جائے یا پھر گناہوں میں بڑھ جائے یہاں تک کہ قیامت کا دن آ جائے۔ جس دن کی ہولناکیاں آنکھیں پتھرا دیں گی، دیدے چڑھا دیں گی، سر اٹھائے پکارنے والے کی آواز کی طرف دوڑے چلے جائیں گے، کہیں ادھر ادھر نہ ہوں گے۔ سب کے سب پورے اطاعت گزار بن جائیں گے، دوڑے بھاگے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حاضری کیلئے بیتابانہ آئیں گے، آنکھیں نیچے کو نہ جھکیں گی، گھبراہٹ اور فکر کے مارے پلک سے پلک نہ جھپکے گی۔ دلوں کا یہ حال ہو گا کہ گویا اڑے جاتے ہیں۔ خالی پڑے ہیں۔ خوف کے سوا کوئی چیز نہیں۔ وہ حلقوم تک پہنچے ہوئے ہیں، اپنی جگہ سے ہٹے ہوئے ہیں، دہشت سے خراب ہو رہے ہیں۔
صفحہ نمبر4258
تفسیر: حافظ ابنِ کثیر (اردو)