قَالَ فَٱخْرُجْ مِنْهَا فَإِنَّكَ رَجِيمٌ
15:34
قَالَ فَٱخْرُجْ مِنْهَا فَإِنَّكَ رَجِيمٌ
15:34
qāla fa-ukh'ruj min'hā fa-innaka rajīmun
(خدا نے) فرمایا یہاں سے نکل جا۔ تو مردود ہے
ترجمہ: مولانا فتح محمد جالندھری
فرمایا اب تو بہشت سے نکل جا کیوں کہ تو رانده درگاه ہے.
ترجمہ: مولانا محمد جوناگڑھی
ابدی لعنت ٭٭
پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے حکم کا ارادہ کیا جو نہ ٹلے، نہ ٹالا جا سکے کہ ” تو اس بہترین اور اعلی جماعت سے دور ہو جا تو پھٹکارا ہوا ہے۔ قیامت تک تجھ پر ابدی اور دوامی لعنت برسا کرے گی “۔
کہتے ہیں کہ اسی وقت اس کی صورت بد گئی اور اس نے نوحہ خوانی شروع کی، دنیا میں تمام نوحے اسی ابتداء سے ہیں۔ مردود و مطرود ہو کر پھر آتش حسد سے جلتا ہوا آرزو کرتا ہے کہ قیامت تک کی اسے ڈھیل دی جائے اسی کو یوم البعث کہا گیا ہے۔ پس اس کی یہ درخواست منظور کی گئی اور مہلت مل گئی۔
صفحہ نمبر4318
تفسیر: حافظ ابنِ کثیر (اردو)