رَّبُّكُمْ أَعْلَمُ بِمَا فِى نُفُوسِكُمْ ۚ إِن تَكُونُوا۟ صَـٰلِحِينَ فَإِنَّهُۥ كَانَ لِلْأَوَّٰبِينَ غَفُورًا
17:25
رَّبُّكُمْ أَعْلَمُ بِمَا فِى نُفُوسِكُمْ ۚ إِن تَكُونُوا۟ صَـٰلِحِينَ فَإِنَّهُۥ كَانَ لِلْأَوَّٰبِينَ غَفُورًا
17:25
rabbukum aʿlamu bimā fī nufūsikum in takūnū ṣāliḥīna fa-innahu kāna lil'awwābīna ghafūran
جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے تمہارا پروردگار اس سے بخوبی واقف ہے۔ اگر تم نیک ہوگے تو وہ رجوع لانے والوں کو بخش دینے والا ہے
ترجمہ: مولانا فتح محمد جالندھری
جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے اسے تمہارا رب بخوبی جانتا ہے اگر تم نیک ہو تو وه تو رجوع کرنے والوں کو بخشنے واﻻ ہے.
ترجمہ: مولانا محمد جوناگڑھی
گناہ اور استغفار ٭٭
اس سے مراد وہ لوگ ہیں، جن سے جلدی میں اپنے ماں باپ کے ساتھ کوئی ایسی بات ہو جاتی ہے جسے وہ اپنے نزدیک عیب کی اور گناہ کی بات نہیں سمجھتے ہیں، چونکہ ان کی نیت بخیر ہوتی ہے اس لیے اللہ ان پر رحمت کرتا ہے، جو ماں باپ کا فرمانبردار نمازی ہو اس کی خطائیں اللہ کے ہاں معاف ہیں۔
کہتے ہیں کہ اوابین وہ لوگ ہیں جو مغرب و عشاء کے درمیان نوافل پڑھیں۔ بعض کہتے ہیں جو صبح کی نماز ادا کرتے رہیں، جو ہر گناہ کے بعد توبہ کر لیا کریں۔ جو جلدی سے بھلائی کی طرف لوٹ آیا کریں۔ تنہائی میں اپنے گناہوں کو یاد کر کے خلوص دل سے استغفار کر لیا کریں۔ عبید کہتے ہیں جو برابر ہر مجلس سے اٹھتے ہوئے یہ دعا پڑھ لیا کریں۔ [ دعا ] «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا أَصَبْتُ فِي مَجْلِسِي هَذَا»
ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں اولیٰ قول یہ ہے کہ جو گناہ سے توبہ کر لیا کریں۔ معصیت سے اطاعت کی طرف آجایا کریں۔ اللہ کی ناپسندیدگی کے کاموں کو ترک کرکے اس کی رضا مندی اور پسندیدگی کے کام کرنے لگیں۔ یہی قول بہت ٹھیک ہے کیونکہ لفظ اواب مشتق ہے اوب سے اور اس کے معنی رجوع کرنے کے ہیں جیسے عرب کہتے ہیں ”اب فلان“ اور جیسے قرآن میں ہے آیت «إِنَّ إِلَيْنَا إِيَابَهُمْ» [88-الغاشية:25] ” ان کا لوٹنا ہماری ہی طرف ہے۔ “
صحیح حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر سے لوٹتے تو فرماتے (دعا) «آيِبُونَ تَائِبُونَ عَابِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ» لوٹنے والے توبہ کرنے والے عبادتیں کرنے والے اپنے رب کی ہی تعریفیں کرنے والے۔ [صحیح بخاری:1797]
صفحہ نمبر4678
تفسیر: حافظ ابنِ کثیر (اردو)