وَعَرَضْنَا جَهَنَّمَ يَوْمَئِذٍ لِّلْكَـٰفِرِينَ عَرْضًا
18:100
وَعَرَضْنَا جَهَنَّمَ يَوْمَئِذٍ لِّلْكَـٰفِرِينَ عَرْضًا
18:100
waʿaraḍnā jahannama yawma-idhin lil'kāfirīna ʿarḍan
اور اُس روز جہنم کو کافروں کے سامنے لائیں گے
ترجمہ: مولانا فتح محمد جالندھری
اس دن ہم جہنم کو (بھی) کافروں کے سامنے ﻻکھڑا کر دیں گے.
ترجمہ: مولانا محمد جوناگڑھی
جہنم کو دیکھ کر ٭٭
کافر جہنم میں جانے سے پہلے جہنم کو اور اس کے عذاب کو دیکھ لیں گے اور یہ یقین کر کے کہ وہ اسی میں داخل ہونے والے ہیں، داخل ہونے سے پہلے ہی جلنے کڑھنے لگیں گے۔ غم و رنج، ڈر خوف کے مارے گھلنے لگیں گے۔ صحیح مسلم شریف کی حدیث میں ہے کہ جہنم کو قیامت کے دن گھسیٹ کر لایا جائے گا جس کی ستر ہزار لگامیں ہونگی۔ ہر ایک لگام پر ستر ستر ہزار فرشتے ہوں گے۔ [صحیح مسلم:2842] یہ کافر دنیا کی ساری زندگی میں اپنی آنکھوں اور کانوں کو بے کار کئے بیٹھے رہے، «وَمَن يَعْشُ عَن ذِكْرِ الرَّحْمَـٰنِ نُقَيِّضْ لَهُ شَيْطَانًا فَهُوَ لَهُ قَرِينٌ» [ 43-الزخرف: 36 ] نہ حق دیکھا نہ حق سنا، نہ مانا نہ عمل کیا۔ شیطان کا ساتھ دیا اور رحمان کے ذکر سے غفلت برتی۔ اللہ کے احکام اور ممانعت کو پس پشت ڈالے رہے۔ یہی سمجھتے رہے کہ ان کے جھوٹے معبود ہی انہیں سارا نفع پہنچائیں گے اور کل سختیاں دور کریں گے۔ محض غلط خیال ہے بلکہ وہ تو ان کی عبادت کے بھی منکر ہو جائیں گے اور ان کے دشمن بن کر کھڑے ہوں گے۔ ان کافروں کی منزل تو جہنم ہی ہے جو ابھی سے تیار ہے۔
صفحہ نمبر5001
تفسیر: حافظ ابنِ کثیر (اردو)