ٱلَّذِينَ إِن مَّكَّنَّـٰهُمْ فِى ٱلْأَرْضِ أَقَامُوا۟ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتَوُا۟ ٱلزَّكَوٰةَ وَأَمَرُوا۟ بِٱلْمَعْرُوفِ وَنَهَوْا۟ عَنِ ٱلْمُنكَرِ ۗ وَلِلَّهِ عَـٰقِبَةُ ٱلْأُمُورِ
22:41
ٱلَّذِينَ إِن مَّكَّنَّـٰهُمْ فِى ٱلْأَرْضِ أَقَامُوا۟ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتَوُا۟ ٱلزَّكَوٰةَ وَأَمَرُوا۟ بِٱلْمَعْرُوفِ وَنَهَوْا۟ عَنِ ٱلْمُنكَرِ ۗ وَلِلَّهِ عَـٰقِبَةُ ٱلْأُمُورِ
22:41
alladhīna in makkannāhum fī l-arḍi aqāmū l-ṣalata waātawū l-zakata wa-amarū bil-maʿrūfi wanahaw ʿani l-munkari walillahi ʿāqibatu l-umūri
یہ وہ لوگ ہیں کہ اگر ہم ان کو ملک میں دسترس دیں تو نماز پڑھیں اور زکوٰة ادا کریں اور نیک کام کرنے کا حکم دیں اور برے کاموں سے منع کریں اور سب کاموں کا انجام خدا ہی کے اختیار میں ہے
ترجمہ: مولانا فتح محمد جالندھری
یہ وه لوگ ہیں کہ اگر ہم زمین میں ان کے پاؤں جما دیں تو یہ پوری پابندی سے نمازیں قائم کریں اور زکوٰتیں دیں اور اچھے کاموں کا حکم کریں اور برے کاموں سے منع کریں۔ تمام کاموں کا انجام اللہ کے اختیار میں ہے.
ترجمہ: مولانا محمد جوناگڑھی
پابندی احکامات کی تاکید ٭٭
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”یہ آیت ہمارے بارے میں اتری ہے۔ ہم بےسبب خارج ازوطن کئے گئے تھے، پھر ہمیں اللہ نے سلطنت دی، ہم نے نماز و روزہ کی پابندی کی بھلے احکام دئیے اور برائی سے روکنا جاری کیا۔ پس یہ آیت میرے اور میرے ساتھیوں کے بارے میں ہے۔“
ابوالعالیہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”مراد اس سے اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔“
خلیفہ رسول عمر بن عبدالعزیز رحمتہ اللہ علیہ نے اپنے خطبے میں اس آیت «الَّذِينَ إِن مَّكَّنَّاهُمْ فِي الْأَرْضِ أَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ وَأَمَرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَنَهَوْا عَنِ الْمُنكَرِ وَلِلَّهِ عَاقِبَةُ الْأُمُورِ» [22-الحج:41] کی تلاوت فرما کر فرمایا ”اس میں بادشاہوں کا بیان ہی نہیں بلکہ بادشاہ رعایا دونوں کا بیان ہے۔ بادشاہ پر تو یہ ہے کہ حقوق الٰہی تم سے برابر لے اللہ کے حق کی کوتاہی کے بارے میں تمہیں پکڑے اور ایک کا حق دوسرے سے دلوائے اور جہاں تک ممکن ہو تمہیں صراط مستقیم سمجھاتا رہے۔ تم پر اس کا یہ حق ہے کہ ظاہر وباطن خوشی خوشی اس کی اطاعت گزاری کرو۔“
عطیہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں اسی آیت کامضمون آیت «وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْاَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ» [24-النور:55] میں ہے۔ کاموں کا انجام اللہ کے ہاتھ ہے۔ «وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ» [28-القص:83] عمدہ نتیجہ پرہیزگاروں کا ہو گا۔ ہرنیکی کا بدلہ اسی کے ہاں ہے۔
صفحہ نمبر5627
تفسیر: حافظ ابنِ کثیر (اردو)