ٱللَّهُ ٱلَّذِى خَلَقَ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا فِى سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ ٱسْتَوَىٰ عَلَى ٱلْعَرْشِ ۖ مَا لَكُم مِّن دُونِهِۦ مِن وَلِىٍّ وَلَا شَفِيعٍ ۚ أَفَلَا تَتَذَكَّرُونَ
32:4
ٱللَّهُ ٱلَّذِى خَلَقَ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا فِى سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ ٱسْتَوَىٰ عَلَى ٱلْعَرْشِ ۖ مَا لَكُم مِّن دُونِهِۦ مِن وَلِىٍّ وَلَا شَفِيعٍ ۚ أَفَلَا تَتَذَكَّرُونَ
32:4
al-lahu alladhī khalaqa l-samāwāti wal-arḍa wamā baynahumā fī sittati ayyāmin thumma is'tawā ʿalā l-ʿarshi mā lakum min dūnihi min waliyyin walā shafīʿin afalā tatadhakkarūna
خدا ہی تو ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو اور جو چیزیں ان دونوں میں ہیں سب کو چھ دن میں پیدا کیا پھر عرش پر جا ٹھہرا۔ اس کے سوا نہ تمہارا کوئی دوست ہے اور نہ سفارش کرنے والا۔ کیا تم نصیحت نہیں پکڑتے؟
ترجمہ: مولانا فتح محمد جالندھری
اللہ تعالیٰ وه ہے جس نے آسمان وزمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کو چھ دن میں پیدا کر دیا پھر عرش پر قائم ہوا، تمہارے لئے اس کے سوا کوئی مددگار اور سفارشی نہیں۔ کیا پھر بھی تم نصیحت حاصل نہیں کرتے.
ترجمہ: مولانا محمد جوناگڑھی
ہر ایک کی نکیل اللہ جل شانہ کے ہاتھ میں ہے ٭٭
تمام چیزوں کا خالق اللہ ہے۔ اس نے چھ دن میں زمین و آسمان بنائے پھر عرش پر قرار پکڑا۔ اس کی تفسیر گزرچکی ہے۔ مالک و خالق وہی ہے ہرچیز کی نکیل اسی کے ہاتھ میں ہے۔ تدبیریں سب کاموں کی وہی کرتا ہے ہرچیز پر غلبہ اسی کا ہے۔ اس کے سوا مخلوق کا نہ کوئی والی نہ اس کی اجازت کے بغیر کوئی سفارشی۔ اے وہ لوگو جو اس کے سوا اوروں کی عبادت کرتے ہو، دوسروں پربھروسہ کرتے ہو کیا تم نہیں سمجھ سکتے کہ اتنی بڑی قدرتوں والا کیوں کسی کو اپنا شریک کار بنانے لگا؟ وہ برابری سے، وزیر و مشیر سے شریک و سہیم سے پاک منزہ اور مبرا ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں نہ اس کے علاوہ کوئی پالنہار ہے۔
نسائی میں ہے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہیں میرا ہاتھ تھام کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان اور ان کے درمیان کی تمام چیزیں پیدا کرکے ساتویں دن عرش پر قیام کیا۔ مٹی ہفتے کے دن بنی، پہاڑ اتوار کے دن، درخت سوموار کے دن، برائیاں منگل کے دن، نور بدھ کے دن، جانور جمعرات کے دن، آدم جمعہ کے دن عصر کے بعد دن کی آخری گھڑی میں اسے تمام روئے زمین کی مٹی سے پیدا کیا جس میں سفید وسیاہ اچھی بری ہر طرح کی تھی اسی باعث اولاد آدم بھی بھلی بری ہوئی ۔ [صحیح مسلم:2789] امام بخاری اسے معلل بتلاتے ہیں فرماتے ہیں اور سند سے مروی ہے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اسے کعب احبار رضی اللہ عنہ سے بیان کیا ہے اور حضرات محدثین نے بھی اسے معلول بتلایا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر6901
تفسیر: حافظ ابنِ کثیر (اردو)