أَمَّنْ هُوَ قَـٰنِتٌ ءَانَآءَ ٱلَّيْلِ سَاجِدًا وَقَآئِمًا يَحْذَرُ ٱلْـَٔاخِرَةَ وَيَرْجُوا۟ رَحْمَةَ رَبِّهِۦ ۗ قُلْ هَلْ يَسْتَوِى ٱلَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَٱلَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ ۗ إِنَّمَا يَتَذَكَّرُ أُو۟لُوا۟ ٱلْأَلْبَـٰبِ
39:9
أَمَّنْ هُوَ قَـٰنِتٌ ءَانَآءَ ٱلَّيْلِ سَاجِدًا وَقَآئِمًا يَحْذَرُ ٱلْـَٔاخِرَةَ وَيَرْجُوا۟ رَحْمَةَ رَبِّهِۦ ۗ قُلْ هَلْ يَسْتَوِى ٱلَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَٱلَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ ۗ إِنَّمَا يَتَذَكَّرُ أُو۟لُوا۟ ٱلْأَلْبَـٰبِ
39:9
amman huwa qānitun ānāa al-layli sājidan waqāiman yaḥdharu l-ākhirata wayarjū raḥmata rabbihi qul hal yastawī alladhīna yaʿlamūna wa-alladhīna lā yaʿlamūna innamā yatadhakkaru ulū l-albābi
(بھلا مشرک اچھا ہے) یا وہ جو رات کے وقتوں میں زمین پر پیشانی رکھ کر اور کھڑے ہو کر عبادت کرتا اور آخرت سے ڈرتا اور اپنے پروردگار کی رحمت کی امید رکھتا ہے۔ کہو بھلا جو لوگ علم رکھتے ہیں اور جو نہیں رکھتے دونوں برابر ہوسکتے ہیں؟ (اور) نصیحت تو وہی پکڑتے ہیں جو عقلمند ہیں
ترجمہ: مولانا فتح محمد جالندھری
بھلا جو شخص راتوں کے اوقات سجدے اور قیام کی حالت میں (عبادت میں) گزارتا ہو، آخرت سے ڈرتا ہو اور اپنے رب کی رحمت کی امید رکھتا ہو، (اور جو اس کے برعکس ہو برابر ہو سکتے ہیں) بتاؤ تو علم والے اور بے علم کیا برابر کے ہیں؟ یقیناً نصیحت وہی حاصل کرتے ہیں جو عقلمند ہوں۔ (اپنے رب کی طرف سے).
ترجمہ: مولانا محمد جوناگڑھی
مشرک اور موحد برابر نہیں ٭٭
مطلب یہ ہے کہ جس کی حالت یہ ہو وہ مشرک کے برابر نہیں۔ جیسے فرمان ہے «لَيْسُوْا سَوَاءً مِنْ اَھْلِ الْكِتٰبِ أُمَّةٌ قَائِمَةٌ يَتْلُونَ آيَاتِ اللَّـهِ آنَاءَ اللَّيْلِ وَهُمْ يَسْجُدُونَ» [3-آل عمران:113] ، یعنی ” سب کے سب برابر کے نہیں، اہل کتاب میں وہ جماعت بھی ہے جو راتوں کے وقت قیام کی حالت میں آیات الہیہ کی تلاوت کرتے ہیں اور سجدوں میں پڑے رہتے ہیں “۔ قنوت سے مراد یہاں پر نماز کا خشوع خضوع ہے۔ صرف قیام مراد نہیں۔
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے «قَانِتٌ» کے معنی مطیع اور فرمانبردار کے ہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ وغیرہ سے مروی ہے کہ «آنَاءَ اللَّيْلِ» سے مراد آدھی رات سے ہے۔ منصور رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد مغرب عشاء کے درمیان کا وقت ہے۔ قتادہ رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں۔ اول درمیانہ اور آخری شب مراد ہے۔ یہ عابد لوگ ایک طرف لرزاں و ترساں ہیں دوسری جانب امیدوار اور طمع کناں ہیں۔ نیک لوگوں پر زندگی میں تو خوف اللہ امید پر غالب رہتا ہے موت کے وقت خوف پرامید کا غلبہ ہو جاتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک شخص کے پاس اس کے انتقال کے وقت جاتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ تو اپنے آپ کو کس حالت میں پاتا ہے؟ اس نے کہا خوف و امید کی حالت میں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کے دل میں ایسے وقت یہ دونوں چیزیں جمع ہو جائیں اس کی امید اللہ تعالیٰ پوری کرتا ہے اور اس کے خوف سے اسے نجات عطا فرماتا ہے ۔ [سنن ترمذي:983،قال الشيخ الألباني:حسن]
صفحہ نمبر7791
ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس آیت کی تلاوت کر کے فرمایا ”یہ وصف صرف سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ میں تھا۔“ [الدر المنشور للسیوطی:355/5:ضعیف] فی الواقع آپ رضی اللہ عنہ رات کے وقت بکثرت تہجد پڑھتے رہتے تھے اور اس میں قرآن کریم کی لمبی قرأت کیا کرتے تھے یہاں تک کہ کبھی کبھی ایک ہی رکعت میں قرآن ختم کر دیتے تھے۔ جیسا کہ ابوعبید رحمہ اللہ سے مروی ہے۔ شاعر کہتا ہے۔ صبح کے وقت ان کے منہ نورانی چمک لیے ہوئے ہوتے ہیں کیونکہ انہوں نے تسبیح و تلاوت قرآن میں رات گذاری ہے۔
نسائی وغیرہ میں حدیث ہے کہ جس نے ایک رات سو آیتیں پڑھ لیں اس کے نامہ اعمال میں ساری رات کی قنوت لکھی جاتی ہے ۔ [مسند احمد:103/4:حسن بالشواهد]
پس ایسے لوگ اور مشرک جو اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہراتے ہیں کسی طرح ایک مرتبے کے نہیں ہو سکتے، عالم اور بےعلم کا درجہ ایک نہیں ہو سکتا۔ ہر عقلمند پر ان کا فرق ظاہر ہے۔
صفحہ نمبر7792
تفسیر: حافظ ابنِ کثیر (اردو)