وَإِنَّ لِلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ عَذَابًا دُونَ ذَٰلِكَ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ
52:47
وَإِنَّ لِلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ عَذَابًا دُونَ ذَٰلِكَ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ
52:47
wa-inna lilladhīna ẓalamū ʿadhāban dūna dhālika walākinna aktharahum lā yaʿlamūna
اور ظالموں کے لئے اس کے سوا اور عذاب بھی ہے لیکن ان میں کے اکثر نہیں جانتے
ترجمہ: مولانا فتح محمد جالندھری
بیشک ﻇالموں کے لیے اس کے علاوه اور عذاب بھی ہیں۔ لیکن ان لوگوں میں سے اکثر بےعلم ہیں.
ترجمہ: مولانا محمد جوناگڑھی
ظالموں کا حال ٭٭
جیسے اور جگہ فرمان ہے «وَلَنُذِيقَنَّهُم مِّنَ الْعَذَابِ الْأَدْنَى دُونَ الْعَذَابِ الْأَكْبَرِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ» [32-السجدة:21] یعنی ” بالیقین ہم انہیں قریب کے چھوٹے سے بعض عذاب اس بڑے عذاب کے سوا چکھائیں گے تاکہ وه لوٹ آئیں “ لیکن ان میں سے اکثر بےعلم ہیں نہیں جانتے کہ یہ دنیوی مصیبتوں میں بھی مبتلا ہوں گے اور اللہ کی نافرمانیاں رنگ لائیں گی۔ یہی بےعلمی ہے جو انہیں اس بات پر آمادہ کرتی ہے کہ گناہ پر گناہ، ظلم پر ظلم کرتے جائیں۔ پکڑے جانے پر عبرت حاصل ہوتی ہے لیکن جیسے ہی پکڑ ہٹی یہ پھر ویسے کے ویسے، سخت دل بدکار بن گئے۔
بعض احادیث میں ہے کہ منافق کی مثال اونٹ کی سی ہے جس طرح اونٹ نہیں جانتا کہ اسے کیوں باندھا اور کیوں کھولا؟ [سنن ابوداود:3089،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
اسی طرح منافق بھی نہیں جانتا کہ کیوں بیمار کیا گیا؟ اور کیوں تندرست کر دیا گیا؟ اثر الٰہی میں ہے کہ میں کتنی ایک تیری نافرمانیاں کروں گا اور تو مجھے سزا نہ دے گا اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے میرے بندے کتنی مرتبہ میں نے تجھے عافیت دی اور تجھے علم بھی نہ ہوا۔
صفحہ نمبر8895
تفسیر: حافظ ابنِ کثیر (اردو)