۞ كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوحٍ فَكَذَّبُوا۟ عَبْدَنَا وَقَالُوا۟ مَجْنُونٌ وَٱزْدُجِرَ
54:9
حزب ۵۳ ¾۞ كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوحٍ فَكَذَّبُوا۟ عَبْدَنَا وَقَالُوا۟ مَجْنُونٌ وَٱزْدُجِرَ
54:9
حزب ۵۳ ¾kadhabat qablahum qawmu nūḥin fakadhabū ʿabdanā waqālū majnūnun wa-uz'dujira
ان سے پہلے نوحؑ کی قوم نے بھی تکذیب کی تھی تو انہوں نے ہمارے بندے کو جھٹلایا اور کہا کہ دیوانہ ہے اور انہیں ڈانٹا بھی
ترجمہ: مولانا فتح محمد جالندھری
ان سے پہلے قوم نوح نے بھی ہمارے بندے کو جھٹلایا تھا اور یہ دیوانہ بتلا کر جھڑک دیا گیا تھا.
ترجمہ: مولانا محمد جوناگڑھی
دیرینہ انداز کفر ٭٭
یعنی اے نبی! آپ کی اس امت سے پہلے امت نوح نے بھی اپنے نبی کو جو ہمارے بندے نوح تھے تکذیب کی، اسے مجنون کہا اور ہر طرح ڈانٹا، ڈپٹا اور دھمکایا، صاف کہہ دیا تھا کہ «قَالُوا لَئِن لَّمْ تَنتَهِ يَا نُوحُ لَتَكُونَنَّ مِنَ الْمَرْجُومِينَ» [26-الشعراء:116] ” اے نوح علیہ السلام اگر تم باز نہ رہے تو ہم تجھے پتھروں سے مار ڈالیں گے “، ہمارے بندے اور رسول نوح نے ہمیں پکارا کہ پروردگار میں ان کے مقابلہ میں محض ناتواں اور ضعیف ہوں، میں کسی طرح نہ اپنی ہستی کو سنبھال سکتا ہوں نہ تیرے دین کی حفاظت کر سکتا ہوں، تو ہی میری مدد فرما اور مجھے غلبہ دے، ان کی یہ دعا قبول ہوتی ہے اور ان کی کافر قوم پر مشہور طوفان نوح بھیجا گیا۔
صفحہ نمبر9004
تفسیر: حافظ ابنِ کثیر (اردو)