وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ تَعَالَوْا۟ يَسْتَغْفِرْ لَكُمْ رَسُولُ ٱللَّهِ لَوَّوْا۟ رُءُوسَهُمْ وَرَأَيْتَهُمْ يَصُدُّونَ وَهُم مُّسْتَكْبِرُونَ
63:5
وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ تَعَالَوْا۟ يَسْتَغْفِرْ لَكُمْ رَسُولُ ٱللَّهِ لَوَّوْا۟ رُءُوسَهُمْ وَرَأَيْتَهُمْ يَصُدُّونَ وَهُم مُّسْتَكْبِرُونَ
63:5
wa-idhā qīla lahum taʿālaw yastaghfir lakum rasūlu l-lahi lawwaw ruūsahum wara-aytahum yaṣuddūna wahum mus'takbirūna
اور جب ان سے کہا جائے کہ آؤ رسول خدا تمہارے لئے مغفرت مانگیں تو سر ہلا دیتے ہیں اور تم ان کو دیکھو کہ تکبر کرتے ہوئے منہ پھیر لیتے ہیں
ترجمہ: مولانا فتح محمد جالندھری
اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آؤ تمہارے لیے اللہ کے رسول استغفار کریں تو اپنے سر مٹکاتے ہیں اور آپ دیکھیں گے کہ وه تکبر کرتے ہوئے رک جاتے ہیں.
ترجمہ: مولانا محمد جوناگڑھی
منافقوں کی محرومی سعادت کے اسباب ٭٭
ملعون منافقوں کا ذکر ہو رہا ہے کہ ” ان کے گناہوں پر جب ان سے سچے مسلمان کہتے ہیں کہ آؤ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے لیے استغفار کریں گے تو اللہ تعالیٰ تمہاے گناہ معاف فرما دے گا تو یہ تکبر کے ساتھ سر ہلانے لگتے ہیں اور اعراض کرتے ہیں اور رک جاتے ہیں اور اس بات کو حقارت کے ساتھ رد کر دیتے ہیں، اس کا بدلہ یہی ہے کہ اب ان کے لیے بخشش کے دروازے بند ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا استغفار بھی انہیں کچھ نفع نہ دے گا، بھلا ان فاسقوں کی قسمت میں ہدیات کہاں؟ “
سورۃ براۃ میں بھی اسی مضمون کی آیت گزر چکی ہے اور وہیں اس کی تفسیر اور ساتھ ہی اس کے متعلق کی حدیثیں بھی بیان کر دی گئی ہیں۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ سفیان راوی نے اپنا منہ دائیں جانب پھیر لیا تھا اور غضب و تکبر کے ساتھ ترچھی آنکھ سے گھور کر دکھایا تھا اسی کا ذکر اس آیت میں ہے اور سلف میں سے اکثر حضرات کا فرمان ہے کہ یہ سب کا سب بیان عبداللہ بن ابی بن سلول کا ہے جیسے کہ عنقریب آ رہا ہے ان شاءاللہ تعالیٰ۔
صفحہ نمبر9522
تفسیر: حافظ ابنِ کثیر (اردو)