وَيَحْلِفُونَ بِٱللَّهِ إِنَّهُمْ لَمِنكُمْ وَمَا هُم مِّنكُمْ وَلَـٰكِنَّهُمْ قَوْمٌ يَفْرَقُونَ
9:56
وَيَحْلِفُونَ بِٱللَّهِ إِنَّهُمْ لَمِنكُمْ وَمَا هُم مِّنكُمْ وَلَـٰكِنَّهُمْ قَوْمٌ يَفْرَقُونَ
9:56
wayaḥlifūna bil-lahi innahum laminkum wamā hum minkum walākinnahum qawmun yafraqūna
اور خدا کی قسمیں کھاتے ہیں کہ وہ تم ہی میں سے ہیں حالانکہ ہو تم میں سے نہیں ہیں۔ اصل یہ ہے کہ یہ ڈرپوک لوگ ہیں
ترجمہ: مولانا فتح محمد جالندھری
یہ اللہ کی قسم کھا کھا کر کہتے ہیں کہ یہ تمہاری جماعت کے لوگ ہیں، حاﻻنکہ وه دراصل تمہارے نہیں بات صرف اتنی ہے کہ یہ ڈرپوک لوگ ہیں۔
ترجمہ: مولانا محمد جوناگڑھی
جھوٹی قسمیں کھانے والوں کی حقیقت ٭٭
ان کی تنگ دلی ان کی غیر مستقل مزاجی , ان کی سراسیمگی اور پریشانی گھبراہٹ اور بے اطمینانی کا یہ حال ہے کہ تمہارے پاس آ کر تمہارے دل میں گھر کرنے کے لیے اور تمہارے ہاتھوں سے بچنے کے لیے بڑی لمبی چوڑی زبردست قسمیں کھاتے ہیں کہ واللہ! ہم تمہارے ہیں ہم مسلمان ہیں حالانکہ حقیقت اس کے برخلاف ہے یہ صرف خوف و ڈر ہے جو ان کے پیٹ میں درد پیدا کر رہا ہے۔
اگر آج انہیں اپنے بچاؤ کے لیے کوئی قلعہ مل جائے اگر آج یہ کوئی محفوظ غار دیکھ لیں یا کسی اچھی سرنگ کا پتہ انہیں چل جائے تو یہ تو سارے کے سارے دم بھر میں اس طرح اڑن چھو ہو جائیں تیرے پاس ان میں سے ایک بھی نظر نہ آئے کیونکہ انہیں تجھ سے کوئی محبت یا انس تو نہیں ہے یہ تو ضرورت مجبوری اور خوف کی بناء پر تمہاری چاپلوسی کر لیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جوں جوں اسلام ترقی کر رہا ہے یہ بجھتے چلے جا رہے ہیں مومنوں کی ہر خوشی سے یہ جلتے تڑپتے ہیں ان کی ترقی انہیں ایک آنکھ نہیں بھاتی، موقعہ مل جائے تو آج بھاگ جائیں۔
صفحہ نمبر3496
تفسیر: حافظ ابنِ کثیر (اردو)