لَـٰكِنِ ٱلرَّسُولُ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ مَعَهُۥ جَـٰهَدُوا۟ بِأَمْوَٰلِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ ۚ وَأُو۟لَـٰٓئِكَ لَهُمُ ٱلْخَيْرَٰتُ ۖ وَأُو۟لَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلْمُفْلِحُونَ
9:88
لَـٰكِنِ ٱلرَّسُولُ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ مَعَهُۥ جَـٰهَدُوا۟ بِأَمْوَٰلِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ ۚ وَأُو۟لَـٰٓئِكَ لَهُمُ ٱلْخَيْرَٰتُ ۖ وَأُو۟لَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلْمُفْلِحُونَ
9:88
lākini l-rasūlu wa-alladhīna āmanū maʿahu jāhadū bi-amwālihim wa-anfusihim wa-ulāika lahumu l-khayrātu wa-ulāika humu l-muf'liḥūna
لیکن پیغمبر اور جو لوگ ان کے ساتھ ایمان لائے سب اپنے مال اور جان سے لڑے۔ انہیں لوگوں کے لیے بھلائیاں ہیں۔ اور یہی مراد پانے والے ہیں
ترجمہ: مولانا فتح محمد جالندھری
لیکن خود رسول اللہ اور اس کے ساتھ کے ایمان والے اپنے مالوں اور جانوں سے جہاد کرتے ہیں، یہی لوگ بھلائیوں والے ہیں اور یہی لوگ کامیابی حاصل کرنے والے ہیں۔
ترجمہ: مولانا محمد جوناگڑھی
منافق کی آخرت خراب ٭٭
منافقوں کی مذمت اور ان کی اخروی درگت بیان فرما کر اب مومنوں کی مدحت اور ان کی اخروی راحت بیان ہو رہی ہے۔ یہ جہاد کے لئے کمر باندھے رہتے ہیں۔ یہ جان و مال اللہ کی راہ میں فدا کرتے رہتے ہیں۔ انہی کے حصے میں بھلائیاں اور خوبیاں ہیں۔
یہی فلاح پانے والے لوگ ہیں۔ انہی کے لیے جنت الفردوس ہے اور انہی کے لیے بلند درجے ہیں۔ یہی مقصد حاصل کرنے والے یہی کامیابی کو پہنچ جانے والے لوگ ہیں۔
صفحہ نمبر3555
تفسیر: حافظ ابنِ کثیر (اردو)